Fandom

Varamozhi

Comments0

ہندو میرج بل وقت کی ضرورت کمیونٹی کے مسائل حل ہوں گے.....تحریر خادم بٹر عکاسی سید مبشر شاہ

RAMAESH KUMAR VENKONI 1 copy

رکن قومی(ن) اسمبلی ڈاکٹر رمیش وانکوانی ،رکن قومی(ن)اسفہن ےار بھنڈارا، چیئرمین پاکستان کرسچن یونائٹیڈ موومنٹ،ا لبرٹ ڈیوڈ،سابق چیئر مین امن کمیٹی پنجاب اعجاز جہانگیر ہندو میرج بل پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے

شادی بیاہ ایک معاشرتی اور سماجی سرگرمی قرار دی جاتی ہے تاہم تمام مذاہب اس کو ایک فریضہ کے طور پر پورا کرتے    ہیں کیوں ہر مذہب کی تعلیم اپنے پیرو کار کو اس کے بارے میں ہدایات اور رہنمائی دیتی ہے باوجود اس کے معاشرے میں شادی کا عمل دو خاندانوں،عزیز اقارب رشتہ داروںیا دوست احباب کے

Hindu marrage pic 2

پاکستان میں ہندو جوڑے کی شادی کا تلک ایک منظر لگوانے کی رسم ادا کررہا ہے

درمیان باہمی رضا مندی اور اتقاق سے طے پایا جاتا ہے اور جس کے تحت بیٹی یا بیٹے کی شادی کی جاتی ہے۔ اور اپنے اپنے مذاہب یا فرقے اس عمل کو قانونی یاجائز قرار دیتے ہوئے ان کا نکاح کرایا جاتا ہے ۔نکاح نامہ لڑکی یا لڑکے کے درمیان ایک(سوشل کنٹریکٹ) سماجی معاہدہ کی حثیت اور درجہ رکھتا ہے جو شادی ہونے کے بعد میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل اور تنازعات کو حل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ 

پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں اس کے مروجہ قوانین ہیں اور باقاعدہ اس کےلئے الگ نظام اور ادارے قائم ہیں ۔ تاہم پاکستان میں مسلم اکثریت،کرسچن ،پارسی اقلیت کو تو شادی بیاہ میں نکاح نامہ باقاعدہ قانون کے مطابق جاری کیا جارہا ہے لیکن اس کے علاوہ دیگر کسی اقلیتی گروپ کو تاحال یہ بنیادی حق نہیں دیا گیا ہے 

پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہندو آبادی کا پونے دو فیصد ہونے کے باوجود اپنی شادی کاغذ پر ثابت نہیں کرسکتے۔ اس ملک میں کوئی ہندو میرج ایکٹ نہیں ہے ۔ جن کی ملک میں آباد 33 لاکھ گیارہ ہزار سے زائد ہے جو اس حق سے محروم ہےں۔ 

1976 میں بھٹو دور حکومت میں سابق وفاقی وزیر راجہ تری دیو بھی یہ ایکٹ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہےںجب کہ اقلیتوں میں سب سے زیادہ عرصہ تک پالیمنٹ کا رکن ہونے کا اعزاز رکھنے والے سابق ممبرقومی اسمبلی ایم پی بھنڈارا اس پربہت کام کرتے رہے ۔ کبھی ریاست آڑے آجاتی ہے تو کبھی خود ہندو کمیونٹی کے مذہبی ٹھیکیدار اس کے راستے کی روکاوٹ بن جاتے تھے۔

سپریم کورٹ چار بار مختلف حکومتوں کو یہ بنیادی انسانی مسئلہ حل کرنے کے لیے کہہ چکی ہے ۔ نادرا کو ضمنی دستاویزی ثبوتوں کی بنا پر دو بار میرج سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تنبیہہ کی جاچکی ہے۔ 

مگر نادرا حکام سوال کرتے ہیں کہ عدالت کا حکم سرآنکھوں پر مگر ہم کس قانون کے تحت میرج سرٹیفکیٹ جاری کریں ۔مختلف قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہندو میرج ایکٹ کے کئی نجی و سرکاری بل پیش ہو کے گل سڑ گئے۔ 18ویں ترمیم کے بعد یہی طے نہیں ہو رہا کہ ہندو میرج ایکٹ وفاقی ہونا چاہیے کہ ہر صوبے کا الگ الگ۔گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی نے خدا خدا کرکے ایک بل کا مسودہ منظور کیا ہے مگر اس میں بھی بعض تکنیکی نقائص ہیں۔ابھی اسے دونوں ایوانوں کی عددی منظوری بھی درکار ہے

۔ 18ویں ترمیم کے بعد چاروں صوبوں کی تحریری رضامندی کے بغیر یہ ایکٹ پورے پاکستان پر لاگو نہیں ہوسکتا۔ ایسی صورت میں اگر پارلیمنٹ نے منظور کر بھی لیا تو اس کا نفاذ صرف اسلام آباد کے وفاقی علاقے پر ہی ہو پائے گا۔تب تک پاکستان کے 33 لاکھ ہندو کیا کریں گے

جب تک قانون نہیں بنتا تو اقلیتی شادیاں کرنا بند کردیں ۔ آئین کی اس شق سے کیسے لطف اندوز ہوں کہ قانون کی نگاہ میں تمام شہری برابر ہیں ۔پاکستان میں مسلم میرج ایکٹ قیام پاکستان سے پہلے کا ہے جو 1962 میں از سر نو ترتیب دے کر منظور کیا گیا لیکن قانون تو پھر بھی گورے بنا کر گئے جس سے رہنمائی لی گئی اسی طرح کرسچن میرج ایکٹ بھی انگریز دور کا ہی پاکستان میں نافظ ہے جو متحدہ ہندوستان میں نافظ تھا ہندو جو گو قیام پاکستان کے بعد اکثریت سے اقلیت میں تبدیل ہو گئے ان کے میرج ایکٹ کے لئے اگر پڑوسی ملک ( بھارت ) کا ہندو میرج ایکٹ مجریہ 1955 ہی پڑھ لیں۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ مفید باتیں مل جائیں شادی کے قانونی تحفظ اور طلاق کے حق سمیت اس مسئلہ سے جڑے دیگر معاشرتی و سماجی پیدا ہونے والے مسائل سے نجات مل جائے اور ملک کی ایک بڑی آبادی کو اس کا بنیادی حق دینے میں رکچھ رہنمائی اور مدد مل جائے ۔ ہمیں بھارت سے تو کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے قانون سے کیا مسئلہ ہے جو صرف ایک قومیت کے درینہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے استعمال ہو گا اس میں ہچکچاہٹ کس بات کی کیا بھارٹ کے قانون کی پاکستان کی عدلیہ میں مثالیں نہیں دی جاتیں کیا عام زندگی میں معاشرے کے اندر بھارت کی کوئی چیز ہمارے استعمال میں نہیں آرہی ہے ہمارے گھروں میں کھانے پینے کے آلو پیاز ،ٹماٹر لہسن تک اب گھر کر چکے ہیں تو ایک قانون سے رہنمائی کے لئے اتنی پس و پیش کس لئے ۔ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کاکے لئے آنکھیں بند کر کے خود کو ہندو برادری کی جگہ رکھ کرسوچیں پتہ چل جائے گا۔کہ جو مسائل ان کو ہیں وہ اگر آپ کو ہوتے تو کیا ہوتا ۔

ہندو میرج ایکٹ کابل گذشتہ سال ایک پرائیویٹ ممبر کے طور پرقومی اسمبلی میں رکن اسمبلی مسلم لیگ (ن) ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے قانون ساز رمیش کمار وانکوانی نے پیش کیا تھا اس حوالے سے رمیش کمار ونکونی نے روزنامہ ” اذکار“ سے گفتگو میں کہا کہ قائمہ کمیٹی سے بل کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے۔میں نے تین سال سے اس بل پر محنت کر رہا ہوں اور میری یہ خواہش تھی کہ پورے پاکستان میں یہ بل نافذ العمل کراو ¿ں اور آج میری محنت رنگ لائی اور قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون و انصاف سے یہ بل منظور ہوا۔ 18 سال سے کم عمر میں بچہ یا بچی شادی نہیں کر سکے گا۔

“ا ±نھوں نے کہا کہ شادی کے بعد علیحدگی سے متعلق بھی اس مسودہ قانون میں شق شامل کی گئی ہے۔مسودہ قانون میں کہا گیا کہ شادی ہونے کے چھ ماہ کے اندر اندر اس کا اندراج کرانا لازمی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں ہندو شادیوں کے اندراج کا کوئی قانون نہیں ہے اور طویل عرصے سے پاکستان میں موجود ہندو برادری اس بارے میں قانون سازی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔پاکستان میں ہندو برادری کا یہ موقف رہا ہے کہ شادی کا اندارج ایک بنیادی ضرورت ہوتی ہے اور ایسا نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں ہندوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیںکیوں کہ قانون کی عدم موجودگی کے باعث بہت سے قانونی معاملات میں کسی جوڑے کے لیے اپنی شادی شدہ حیثیت کو ثابت کرنا ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے کہاہے کہ سول سوسائٹی سے بھی انہوں نے رابطے کیئے انہوں نے تجاویز دی تھی کہ بل کے قانون بننے کے بعد اس کا اطلاق تمام اقلیتوں پر ہوسکے۔بل کے خدو خال ایسے بنائے جائیں جس سے زبردستی مذہب تبدیل کراکے ہونے والی شادیوں کو روکا جاسکے۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے نشاندہی کی کہ بل کے متعلق ہندو ¿ ،سکھ، عیسائی اور پارسیوں کے اکابرین کو بھی مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ مستقبل میں بننے والے قانون پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔ ان کی اس تجاویز پر میں ملک بھر میں بڑے بڑے سیمینار منعقدد کرائے اور سب کو ایک میز پر لایا اور ان سے مشاورت کی گئی ان کی تجاویز لی گئیںانہوں نے اپنی تجاویز میں کہا کہ اگر صوبوںکی تمام جماعتیں اس بل پر متفق ہیں تو اسے اسمبلی میں پیش کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ بل کے ذریعے پاکستان میں ہندو میں شادی و طلاق کے متعلق قوانین متعین کیے جانے ہیں کیونکہ فی الحال ہندو شادی کو کسی قانونی دستاویز سے ثابت نہیں کیا جا سکتا،ایسے مسائل کا یونین کونسل میں حل ہونا چاہئے۔ میرج اتھارٹی ضلع میں بنے گی تو یونین کونسل ضلع میں خود بخود رجسٹریشن مل جائے گی۔ اقلیتی برادری کا یہ اہم مسلہ ہے، انھیں قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے ۔

جس کی وجہ سے ہندووں کو نہ صرف جبری شادیوں اور مذہب تبدیلی کے مسائل کا سامنا ہے بلکہ طلاق اور قومی شناختی کارڈ کے حصول میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔شادی شدہ افراد اپنی فیملی کے ساتھ ملک سے باہر جانا چاہیں تو وہ دستاویزی ثبوت کے طور پر ثابت نہیں کرسکتے کہ ساتھ جانے والی خاتون ان کی بیوی ہی ہے۔پاکستان کے قائم ہونے کے 68 برسوں سے ہندوو ¿ں کی شادی اور طلاق کاکوئی طریقہ کار وضح نہ ہونے سے بے شمار سماجی اور معاشرتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ، ہندو میرج بل کئی دفعہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی کوششیںکی گئی تھیں لیکن کسی بھی دور میں اس پر سنجیدگی سے کام نہ کیا گیا تھا 

مختلف حکومتوں کی طرف سے اس دوران نئے نئے بنائے جانے والے قوانین ،سامنے آتے گئے ان میںکی جانے والی قانون میں ترامیم کوملک میں نفاظ کیا گیا قانونی دستاویز کی عدم دستیابی سے چھوٹے چھوٹے مسئلے اب ہر ہندو شادی شدہ جوڑے اور ان کے بچوں کے لئے مسائل بن چکے ہیں اور ان کو ملک کے آئینی اور قانونی شہری ہونے کے باوجود قومی دھارے سے باہر رکھ اجارہاہے انہیں حکومتی سرکاری اور نیم سرکاری و نجی اداروں میں عزت ملتی ہے نہ پوچھا جاتا ہے ان کا کوئی کام نہیں کیا جاتا تھا یہ سب اجتماعی اور انفرادی حثیت سے بھی ہر کسی کے لئے نقصان دہ تھا ملک کی تمام اقلیتوں کے لئے ضروری ہوچکا تھا کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مل کر اس کا حل نکالا جائے اور پھر اس کے لئے میں کام کرنا شروع کیا او ر سب کی مشاورت سے ایک قابل قبول مسودہ تیارکیا گیا اور اسے قانون سازی کے لئے پیش کیا تھا۔

جس کے جواب میں حکومت کی طرف سے بھی ایک مسودہ وزارت قانون، انصاف و انسانی حقوق کی جانب سے تیار کیا گیا حکومتی مسودے کی متعدد شقوں پر اعتراضات آئے جس میںایک شق یہ تھی کہ اگر میاں یا بیوی میں سے کوئی بھی اپنا مذہب بدل لے تو شادی منسوخ ہوجائے گی۔بعض ہندو ارکان پارلیمان نے اس شق پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لالچند مالھی نے بل کی چندمزید شقوں پر تحفظات کا ظہار کرتے ہوئے کیا تھا کہ اس بل سے’خطرہ ہے کہ اس سے تبدیلی مذہب کے واقعات میں اضافہ ہو جائے گا جب کہ ہندو عوام کو پہلے ہی بہت سے اس طرح کے مسائل درپیش ہیں جس پر اراکین کو اعتماد میں لیا گیا اور قائمہ کمیٹی نے ایک طویل بعث کے بعد اس بل کو قائمہ کمیٹی سے قانون سازی کے لئے منظور کیاکر لیا ہے

ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے مزید کہا ہے کہ ابھی بھی اس پر کام ہونا ہے اٹھارویں ترمیم کے منظور ی ہونے کے بعد اقلیتوں کے امور کی نگرانی برائے راست صوبوںکو تقویض ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اب ہندو میرج ایکٹ صوبائی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ صوبوں کو بھی اس پر کام کرنا ہے لیکن ملکی قانون قومی اسمبلی میں پاس ہونے ہیں اور سینٹ سے اس کی منظوری ہونا ہے وزارتِ قانون و انصاف کے تجویز اور پیش کردہ بل میں کچھ ترامیم کی ہیں اقلیتی ارکین کو اعتراض ہے ۔

حکومت کے مجوزہ بل میں سے ایسی شقوں کو ختم کیا جائے جیسا کہ اگر ازدواجی بندھن کے بعد میاں یا بیوی میں سے کوئی کسی دوسرے کے ساتھ قصداً جنسی تعلقات رکھے تو شادی منسوخ ہو جائے گی۔اس پر سب اقلیتی اراکین کی رائے میں تضاد پایا جا تا تھا حتی ٰ کہ چند اراکین نے نے اس کو تسلیم کرنے کی بجائے ختم کرنے کی تجویز دی اور کوشش کی بھی کی ہے لیکن ان تحفظات اور شقوں کو بہتر کر کے اس کو قانون بنایا جائے گاکیونکہ اس کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا تاہم اس سے قبل صوبوں کو بل کے حق میں قراردار منظور کرنا ہوگی۔

اس پر سپریم کورٹ نے بھی قرار دیا تھا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت ہندوو ¿ں کی شادی کے ایک قومی قانون کے لیے ضروری ہے کہ چاروں صوبوں کی اسمبلیوں میں اس کی میں قراردادیں منظور ہوں۔ ہندوو ¿ں کے شادیوں کے اندراج کے لیے ایک قومی ادارے قائم ہوں۔ 

ٓٓ ٓ  ا لبرٹ ڈیوڈ چیئر میں پاکستان یونائٹیڈ کرسچن موومنٹ ، نے ہندو میرج بل پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ، بدھ مت ۔بہائی مذہب ،پارسی ،سکھ ،قادیانی ،یہودی،کرسچن ،ہندواقلیتیں آباد ہیں اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں اقلیتیں خطہ کے دیگر ممالک سے زیادہ پرامن اور سکون سے ہیں لیکن کوئی حکومت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ وہ ان کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کر رہی ہے جو بھی حکومت بر سر اقتدار آتی ہے کہتی کچھ ہے کرتی کچھ ہے سہولیات اور حقوق دینے کی باتیں یا تقریروںاور خبروں کی حد تک ہی محدود ہوتے ہیں عملی کوئی حکومت اس پر کام نہیں کرتی ورنہ اگر کوئی حکومت نے اس حساس اور اہم کام کو وقت پر کیا ہوتا میرج بل اور نکاح نامہ کسی قومیت کا نہیں ملکی قانون کا دستایز ہے ریاست اپنے قوانین کے تمام دستاویزی ثبوت اپنے رہائشیوں اور باشندوں کو دینے کی پابند ہے جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے 

سابق چیئر مین نیشنل پیس کونسل پنجاب مسیحی سیاسی و سماجی رہنمااعجاز جہانگیرنے کہا کہ میرج بل تمام اقلیتوں کے لئے ہونا چاہیے ملک میں دیگر اقلیتی عوام کو بھی اس طرح کے مسائل درپیش ہیں ان کے لئے بھی ایک ساتھ کام شروع کر لیا جائے تو ان کا مسئلہ بھی ساتھ ہی حل ہوجاتا آج اگر ہندو میرج بل آزادی کے 68 سالوں بعد حل ہورہا ہے تاخیریا نظر انداز کرنے کی صورت میں تو ان کو سو سال مزید انتظار کی سولی پر لٹکا دیا جائے گا اس دوران وہ لوگ کیا کریں گے ان کے بچے شادیاں نہیں کریں گے اور ان کے شادی شدہ بچوں کے بھی اپنے بچے ہوں گے انہیں بھی میاں بیوی ی حثیت اپنے شناختی کارڈ بنوانے کی ضرورت ہے ان کے

بچوں نے بھی سکولوں میں جانا ہے ملک میں رروزگار کے لئے ملازمت حاصل کرنی ہے ان کا کیا قصور ہے جن کو شادی تو کرنے دی جاتی ہے لیکن ان کو قانونی دستاویزات سے محروم رکھا جاتا ہے میرے خیال سے تمام اقلیتی عوام کے اہم سربراہوں کو بلایا جائے اور ان سے بھی اپنے اپنے مذاہب رسم وراوج اور عقیدہ کے مطابق ان سے شادی بل اور نکاح نامہ کے متعلق رائے طلب کی جائے اس کو ایک ڈرافٹ کی شکل دی جاتی اور اسے اسمبلی میں پیش کیا جاتا اور انہیں بھی ان کا یہ بنیادی 

حق دیا جاتا ،تاکہ کوئی گروپ صرف اس وجہ سے محروم نہ رہ جائے کہ ان کی قومی اسمبلی یا سینٹ میں کوئی نمائندگی نہیں اور ان کے حق کےلئے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے۔

اس حوالے سے رکن قومی اسمبلی اسفن یار بھنڈارا نے اذکار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ کئی سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا یہ ہندو مسلم سکھ کرسچن ،پارسی کا مسئلہ نہیں یہ سرکار کا مسئلہ تھا جسے سرکاری سطح پر اس کی ضرورت ہے اگر اقلیتیں پاکستان کا حصہ ہیں اور ان کو آئین اور قانون میں برابری کے حق حاصل ہے تو پھر یہ اکثریت اور اقلیت کا جواز نہیں پیدا ہوتا میرے والد ایم پی بھنڈارا نے اس پر کئی سالوں تک کام کیا اب بھی تمام اقلیتی اراکین کی اس پر ایک رائے ہے۔

اگر کسی نقطہ پر کسی کے تحفظات ہیں بھی تو ان کو بھی دور کیا جائے گا اور یہ کریڈٹ بھی وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو جائے گا کہ ان کی حکومت میں ایک ایسا مسئلہ حل ہوا جس سے معاشرے میں بہت سے ہندو شادی شدہ جوڑے کونکاح نامہ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کا نکاح نامہ نہیں تو شناختی کارڈ ہی نہیںبنتاوہ اپنا پاسپورٹ نہیں بنوا سکتے وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے ، ویزا نہیں مل سکتا۔ رات گئے میاں بیوی باہر اکھٹے نہیں نکل سکتے ، ہوٹل میں بغیر دستاویزی شناخت کے ایک ہی کمرے میں نہیں رہ سکتے۔ شوہر یا بیو ی کے نام جائیداد کی منتقلی نہیں ہو سکتی ۔ بیوی کو خاوند کی پنشن نہیںمل سکتی ۔دونوںمشترکہ اکاو ¿نٹ نہیںکھلوا سکتے ہیںمیرج ٹ سرٹیفکیٹ تسلیم نہ ہونے سے شناختی کارڈ بناتے وقت رشتے کے خانے میںکیا لکھا جائے؟ ،میاں بیوی کے درمیاں اگر تنازعہ ہوجائے تو ان کے درمیان علیحدگی یا طلاق کس بنیاد پر ہو گی کیونکہ دونوں کے پاس میاں بیوی ہونے کو کوئی ثبوت موجود نہیں جو ہے اسکو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے ۔

بچوں کی ولدیت کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے تاریخ پیدائش کی پرچی دستیاب نہیں ہوتی بچوں کوسکولوں میں داخلے کےلئے پیدائش پرچی یونین کونسل جاری کرتے ہے جہاں نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں ہو نہ وہ پرچی دیتے ہیں 

جب کہ انسانی زندگی کو روزانہ کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو صرف شناختی کارڈ سے جڑے ہیں اور بطور میان بیوی دونوں کا شناختی کارڈ صرف نکاح نامہ تسلیم ہونے سے بنتا ہے اس لئے نکاح نامہ کا مسئلہ فوری حل ہونا چاہیے ہندو نکاح اور شادی کامروجہ طریقہ ہے کہ ایک مندر جس میں شادی ہوتی ہے اس کا پنڈت اس شادی شدہ جوڑے کو مندر کے جاری لیٹر پیڈ پر نکاح کا سرٹیفیکٹ جاری کرتا ہے لیکن اس نکاح نامہ کو حکومت اور اس کے ذیلی ادارے صوبائی ہیں یا قومی تسلیم نہیں کرتے ۔

انہوں نے کہاکہ اس سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے جس کی بڑی آبادی سندھ میں آباد ہے اس وقت ملک اعداد شمار کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو اس کے مطابق ملک بھر میں33 لاکھ11 ہزار 500 کے قریب ہندو آباد ہیں سب سے زیادہ سندھ میں 3090500 آباد ہیںخیبر پختونخواہ میں 7000 ہزار،پنجاب میں 1 لاکھ 58 ہزار،بلوچستان میں 53ہزار، اسلام آباد میں241 ،فاٹا میں1470 کے قریب ہندو آباد ہیں سندھ کے صوبہ ضلع تھرپارکرمیں 5 لاکھ سے زائدحیدر آباد میں4 لاکھ75 ہزار سے زائد،عمر کوٹ میں4 لاکھ 27 ہزار سے زائد،میرپورخاص میں 4 لاکھ سے زائد،سانگھڑ میں3 لاکھ96 ہزارسے زائد،بدین میں 3 لاکھ7 ہزار سے زائد۔کراچی شہر1 لاکھ14 ہزارسے زائدگھوٹکی میں88 ہزار ،جیکب آباد68 ہزار سے زائد،خیر پور میں61 ہزار سے زائد ہندو آباد ہیں۔

سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں بھی ان کی تعداد ہزاروں میں ہے جن کو سفری آتے جاتے پولیس سمیت ضلعوں کے دیگر محکموں میں نکاح نامہ کی وجہ سے تمام شہروںمیںروزانہ بے شمار مسائل آڑے آتے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی روک تباہ وبربادکررہے ہیںجہاں وہ ہیں ان کے کام سرکاری دفاتر میں ایکقدم آگے نہیں بڑھتے ساری زندگی وہ جوڑا مصبتوں کو گلے لگا کر پھرتا رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ہندو میرج بل مسلم لیگ حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے ورنہ دوسری سیاسی پارٹیوں میں تو اس پر کوئی بات نہیں کرتا تھا بل کو جلد قانونی سازی کے بعد حتمی شکل دیکر منظور بھی کر لیا جائے اور ملک بھر میں اس کا نفاظ بھی ہوگا جس سے ہندو کمیونٹی کے لاکھوں افراد جو در در دکھے کھاتے تھے اور پریشان ہوتے تھے ان کی ایک مصیبت سے جان چھوٹ جائے گی اور وی بھی کم از کم قومی دھارے میں شامل ہونے کے دعوےدار ہوجائیں گے 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میںہندو میرج ایکٹ 2015ءکا وہ بل جو منظور کر لیا گیا ہے اور اجلاس میں شامل ان ممبران کے نام جو سرکاری طور پر میڈیا کو جاری کیئے گئے تھے ان میں محسن شاہ نواز رانجھا، محمد معین وٹو، کرن حیدر، سید ایاز علی شاہ شیرازی، ممتاز احمد تارڑ،آسیہ ناز تنولی، شگفتہ جمانی، انجینئر علی محمد خان ایڈووکیٹ، مولانا محمد خان شیرانی، مس عائشہ نے اجلاس میںشرکت کی تھی جبکہ خصوصی دعوت پر ڈاکٹر رمیش کما رونکونی ، ڈاکٹر درشن اور لعل چند نے شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین چودھری محمود بشیر ورک کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہواتھا۔ وزارت قانون و انصاف اور وزارت انسانی حقوق کی جانب سے کمیٹی کو ہندو میرج بل 2015ءکے مقاصد کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ جس کے تحت ہندو لڑکے یا لڑکی میں سے کسی نے مذہب بدلا تو انکی شادی ٹوٹ جائے گی۔ ہندو لڑکے اور لڑکی کی شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے پر اتفاق ہوا۔میڈیا

کے مطابق بل منظور کرتے وقت 3 ہندو ارکان کی مخالفت کو نظرانداز کر دیا گیا۔ ان ہندو ارکان کا کہنا تھا کہ بل سے زبردستی مذہب کی تبدیلی کے واقعات نہیں رک سکیں گے۔ بل کے تحت ہندو لڑکے لڑکی کی شادی پنڈت کرائیں گے لیکن سرکاری رجسٹرار بھی موجود ہو گا، ہندو لڑکا لڑکی علیحدگی کے بعد اگر سمجھوتہ کر لیں تواکٹھے رہ سکتے ہیں انہیں اس کیلئے دوبارہ شادی کی ضرورت نہیں ہو گی۔ علیحدگی کے بعد شوہر بیوی بچوں کے نان و نفقہ کے پابند ہوں گے۔ شادی کے بعد شوہر ظالمانہ سلوک کرے یا 2 سال تک تعلق نہ رکھے تو ہندو خاتون کو علیحدگی کا حق مل جائے گا۔ بل کے تحت ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والا کوئی لڑکا یا لڑکی 18 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے شادی نہیں کر سکتا۔ ایسا ہونے کی صورت میں شادی کرنے Khadim.buttar 08:15, February 20, 2016 (UTC)والے لڑکے اور لڑکی پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

کمیٹی کے رکن اور اسلامی نظریہ کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے 18 سال کی عمر رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سمیت تمام مذاہب لڑکے اور لڑکی کی بلوغت کی عمر تک پہنچنے پر شادی پر متفق ہیں

۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے شادی کے چھ ماہ کے اندر اندر شادی کا اندراج کرانا لازمی ہے۔ کوئی طلاق لینا چاہے تو عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان میں ہندو برادری کی شادیوں کے اندراج کا کوئی قانون نہیں جس سے ہندو برادری کو شدید خدشات تھے حالیہ برسوں میں ہندو برادری کی جانب سے اس معاملے پر قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔

اجلاس میں شریک ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے بتایا کہ بل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ شادی کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے دونوں میں علیحدگی دو سال میں ہوگی، تاہم اس کے علاوہ اس میں چھ ماہ کا اضافی وقت بھی دیا گیا ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان اختلافات ختم ہو جائیں تو پھر بھی وہ اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ 

بل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر اس عرصے کے دوران میاں بیوی کے درمیان اختلافات ختم نہ ہو سکیں تو پھر وہ دوسری شادی کرنے کے مجاز ہوں گے۔ بل میں اس شق کو شامل نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی ہندو لڑکا یا لڑکی مذہب تبدیل کرتے ہیں تو انہیں پہلے اس شادی کو ختم کرنا ہوگا، مذہب تبدیل کرنے سے شادی کو منسوخ کرنا درست نہیں۔ 

اس سے پہلے اگر کوئی ہندو لڑکا یا لڑکی مذہب تبدیل کرنے کے بعد عدالت سے رجوع کرے تو عدالت ان کی شادی کو منسوخ کرنے کی مجاز تھی۔ ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی اور تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان نے اس کی مخالفت کی تھی۔ 

جب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش ہو گا تو وہ اس شق کو بل میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ ہندو میرج بل 2015ءکی شق ایک کی ذیلی شق 2 کا دائرہ کار بلوچستان اور خیبر پیختونخواہ کی بجائے ملک بھر تک بڑھایا جائے۔ کمیٹی نے شق 2 سے 25 تک مختلف ترامیم کے ساتھ بل کی منظوری دی۔پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے ’ہندو میرج ایکٹ 2015‘ کے مسودہ قانون کو منظور کر لیا ہے۔ جس کے بعد اب قانون سازی کے لیے اس مسودے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائے گا

Ad blocker interference detected!


Wikia is a free-to-use site that makes money from advertising. We have a modified experience for viewers using ad blockers

Wikia is not accessible if you’ve made further modifications. Remove the custom ad blocker rule(s) and the page will load as expected.