Fandom

Varamozhi

Comments0

گیس لوڈ شیڈنگ یا نئی دوکانداری

گیس لوڈ شیڈنگ یا نئی دوکانداری تحریر خادم بٹر

پا کستا ن کی 18کرو ڑ عوا م نے د نیا بھر کی طر ح ا ٓج بر دا شت کے عا لمی دن کو جو ش خرو ش سے منا یابر دا شت کا عا لمی دن 16نو مبر کو د یگر تما م تہوا ر اور دنوں کی طر ح دنیا بھر میں منا یا جا تا ہے اس دن کو منا نے کا مقصد یو ں تو با ہمی بھا ئی چا رے ،برابری اور معا شر تی مسا وا ت کو کو فرو غ دینا قرارر دیا گیا ہے جس میں سماجی سر گر میو ں میں ایک دو سر ے کے حقو ق کی پا سدا ری ،احساسات اور جذبا ت کی تکر یم کو اہمیت حاصل ہے ۔روا یتی طو ر پر اقوا م متحد ہ کے ا دا رے یو نیسکونے پہلی مر تبہ 1996میں عدم بر دا شت کے بر عکس اس دن کو پیش کیا او ر اس کو منا نے کے لیے د نیا بھر میں اس کی آگا ہی کے لیے کا م شر و ع کیا تا کہ خلا ف شعور کو بیدا ر کیا جا ئے او ر عوا می سطح پر دنیا بھر کے معا شرو ں میں بر دا شت کے ر و یو ں کو مثبت اندا ز میں پیش کر کے معاشر تی نا ہمو ا ریو ں کو ختم کیا جا سکے اور دنیا میں بہتر ین معا شروں کی تشکیل ممکن ہو سکے ۔پا کستا ن میں بھی حکو متی سطح پر د یگر مما لک کی طر ح بطو ر ر کن اقوا م متحد ہ دن کو منا یا جاتا ہے تاہم اگر عوا می سطح پر دیکھا جا ئے تو پا کستا ن کی عوا م قیا م پا کستا ن کے بعد مسلسل گز شتہ نصف صدی کے و سط سے اس دن کو ا نتہا ئی جو ش و خرو ش سے منا رہی ہے اور اس کے باوجود نہ تو اس سے کوئی تبدیلی رونماہوئی اور نہ ہی عدم برداشت کے ماخذ عناصر میں کمی اس کے برعکس عدم براداشت سے دلی لگاﺅ رکھنے والوں کی تعدادمیں دن دوگنی اور رات چوگنی اضافہ ہی اضافہ ہوا اور پاکستان کی عوام کو عدم براداشت اس روئیے اور سلوک کا عادی بنا دیاگیا ہے جس نے عوام کی قوت برداشت کی حس کو ہی ناکارہ کر دیا ہے اور معاشرے میں کسی بھی طرح کے رونما ہونے والے عمل کا نہ تو کوئی رد عمل ہوتا ہے نہ ہی اس کے لئے کوئی تیارہوتا ہے۔ پا کستا ن کے سیا سی و سما جی اور ا نتظا می امو ر میںنا کا می کے با و جو د دنیا کے ہم پلہ اور ہمقد م نہ ہونے ۔ عوا م کوسہولیات کی عدم فراہمی ان کا معیا ر ز ند گی بلند ہوا نہ اس کی کو ششیں ہو ئیں ۔عوا می معیا ر زندگی جد ید دو ر میں بھی آج ما ضی کا ہی عکا س ہے تر قی یا فتہ مما لک کی فہر ست میں شا مل ہو نے کے بجا ئے ملک تر قی پذیر مما لک کی فہر ست سے بھی خا رج ہو نے کے قر یب تر ہے ۔ریلو ے ،پی آئی اے ۔صحت ،تعلیم ،معا شیا ت ،عد ل و ا نصا ف اور امن وا ما ن معا شر تی تر قی کے ا ہم ذرا ئع خس کم جہا ں پا ک کے الفا ظ کے منتظر ہیں ۔دنیا بلٹ پرو ف ریلو ے نظا م سے استفا دہ کر رہی ہے۔تو ہم 20,24گھنٹے تا خیر سے پہنچے وا لی ٹر ینو ں سے ہا تھ د ھو رہے ہیں۔بجلی جو 2006سر پلس تھی اور پڑو سی مما لک کو فرو خت کے لیے مو ضع گفتگو تھی اچا نک عدم بر دا شت کے حا می پا لیسی میکرز کے ہتھے چڑھ گئی اور دن کے 24گھنٹو ں میں سے عوا م کو 18سے20گھنٹے طو یل لو ڈ شیڈ نگ کی تا ر یکیو ں اور ا ذیتو ں کا سا منا کر نا پڑااوراس کے متبا دل پا لیسی سا زوں نے بجلی کا ایک یو نٹ بھی تیا ر کر نے کے بجا ئے لو ڈشیڈ نگ کی ا ٓ ڑ میں ار بو ں،کھربو ں کے یو پی ایس،جنر یٹر ز انر جی سیور سسٹمزاور بلب پنکھوں کے ڈھیرما ر کیٹ میں لگا د ئیے۔اور ا پنی تجو ر یو ں کو دو لت سے لبا لب بھر نے کے با و جو د مو سم سر ما کا آغا ز ہو نے سے قبل ہی گیس بند ش اور گیس لو ڈ شیڈ نگ کی سر عا م د ھمکیا ں د ے کر عوا م کو دسمبر جنو ر ی کی شد ید سر دی میں بے یا ر و مد د گا ر کر نے کی پا لیسیا ں بنا ئی جا ر ہی ہیں اور عوا م کو ذہنی طو ر پر گیس کے بغیر زند گی گز ا ر نے کے لیے تیا ر کیا جا رہا ہے اور اپنی نئی دکا ندا ری اور سو دے فرو خت کر نے کے لیے از سر نو منصو بہ سا زی کی جا رہی ہے اور گیس لوڈ شیڈ نگ کی آمد کے حوالے سے حکومت پاکستان کے ہر سطح کے ذ مہ دار اور غیر ذمہ دار ذرائع کی طرف سے اخبارات میں بلا ناغہ بیان بازی کی جارہی ہے اس کی اس طرح تشہیر کی جا رہی ہے جیسے گیس لوڈ شیڈنگ حکومت کا کوئی بہت بڑا کارنامہ ہے اور حکومت کی اس کارکردگی اور کامیابی کی خبر پاکستان کے کونے کونے میں بسنے والے ہر ایک اس شخص کے پاس پہنچ جائے تاکہ کوئی بھی گیس استعمال کرنے والا صارف حکومت کی عوام کو دی جانے والی بجلی کے بعد گیس لوڈ شیڈنگ کی سکیم سے محروم نہ رہ جائے اور بعد میں عوامی حلقوں کی طرف سے حکومت کی نیت اور کردار پر انگلیاںنا اٹھنانا شروع ہوجائیں پہلے ہی حکومت بجلی گیس اور پیٹرولیم کی قیمتوں کو آئی ایم ایف کی منشا کی مطابق نہ بڑھانے کی وجہ سے قرضے فراہم کرنے والے تمام اداراوں میں ہدف تنقید ہے جس کی وجہ سے حکومت کو آئی ایم ایف اور اس طرح کے دیگر اداروں میں انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ تا ہے جو حکومت کے چند اعلیٰ عہدوں پر برجمان لوگوں کو بالکل برداشت نہیں بھلے عوام اس کو برداشت کرے تو کرے اب کوئی عوام کی برداشت کا مقابلہ یا سامنا تو نہیں کرسکتا نہ ہی کسی میں آئی ایم ایف جیسے طاقت ور وں کو ناراض کرنے کی ہمت ہے ہاںہم سردیوں میں گیس لوڈ شیڈنگ جو کہ کسی مجبوری کی بنا پر اب ناگزیر ہوچکی ہے اس کو روک تو نہیں سکتے نہ ہی ملک میں گیس استعمال کرنے والے تمام صارفین کو پسندیدہ قرار دیئے جانے والے ملک بھارت سے گیس کے متبادل کھانے پکانے اور سردی کی شدت سے بچنے کے لئے اپلے یا لکڑیاں منگوا کر دے سکتے ہیں گیس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام کو مستقبل میں مشکلات یا تکلیفوں یا اذیتوں کا جو سامنا ہوگا اس کا احساس حکومت پاکستان اور اس کے حامیوں کو ہے حکومت اس ضمن میں عوام کو سہولت دینے کے لئے حکومت مسلسل اپنے چاہنے والوں سے رینٹل پاور منصوبوں اور معاہدوں کی کوشش کر رہی ہے تاکہ حکومتی بہی خواہ سردیوں میں عوام کو سردی سے بچنے کے لئے سولر انرجی گیز اور ہیٹر فروخت کرکے ملک میں بے روز گاری ملک میں کاروبار نہ ہونے کے طعنے دینے والے حکومتی مخالفین اوراپوزیشن کے منہ بند کر سکیںتاکہ ملک سولر مصنوعات کی فروخت کے لئے بیرونی سرمائیہ داروں کے لئے ایک آئیڈیل مارکیٹ ثابت ہو گا اور موبائل فونز کمپنیووں کے تجربات ان کے لئے مثال ہیںامید ہے کہ سولرز ٹیکنالوجی کی مصنوعات بنانے والی بڑی بڑی کمپنیاں کبھی بھی اس نئی دریافت ہونے والی مارکیٹ کو نہیں کھوئیں گی جس میں 18 کروڑ گونگے بہرے اور اندھے خر یدار جو کہ قیمت تو قیمت کوالٹی اورمعیار کو بھی نہیں دیکھتے اور صرف ٹی وی اور سڑکوں پر لگے بڑے بڑے بورڈ زپر ہی اعتماد کر لیتے ہےںاس بات کی حکومت مکمل گارنٹی فراہم کرے گی کہ اگر ان کی فروخت ہونے والی اشیاءغیر معیاری یا ناقص بھی ہوئی تو عوام کوقیمت واپس دینے یا متبادل دینے کی بجائے وہ صرف انکو اپنے فرنچائز طرز کے صاف ستھرے دفاتر کے چکر ہی لگواتے رہیںکیونکہ ہماری عوام کی برداشت بہت زیادہ ہے بلکہ حکومت یقین دہانی کرانے میں بھی عار محسوس نہیں کرے گی کہ وہ اپنی عوام کی حمائت میں اپنے ملک میں سرمائیہ دارطبقوں کے خلاف کو ئی اقدامات کر کے ان کے لئے مشکلات پیدا کرے حکومت کا موجودہ دور اقتدار اس کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کی حمائت میں کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی نہ عوام کے کہنے پر کسی کمپنی کے خلاف کاروائی کی ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ ہو سکے عوام کی اتنی برداشت پر تو حکومت کو خود فخر ہے اور عوام کے اس تعاون سے تو حکومت اپنی مدت پوری کرے گی جس سے جمہوریت کو بھی استحکام ہوگااسی لئے عوام کے لئے پاکستان میں تمام سیاستدانوں نے اپنی اپنی ترجیحات اور منشور میں تبدیلی کرلی ہے زراعت اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اداروں کو بہتر کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہی اب عوام کو کھانے پینے ۔روزگار،تعلیم،صحت،اورسکون کے بغیر زندگی گذارنے کی عادت ہوگئی ہے ، سر چھپانے کے لئے چھت کے مسائل بھی زلزلے اور سیلاب میںٹینٹ سکیم سے تقربناً حل ہو گئے ہیں اپنے

عوام کی اس برداشت کو تمام سیاست دان قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ٓائندہ اگر 18 ویں ترمیم طرز کی متفقہ قانون سازی کا دوبارہ سب کو موقع ملا تو سب سے پہلے حکومتی اور سیاستدانوں کے کارناموں کارکرگی اور رویوں کو خاموشی سے عوام کی طرف سے برداشت کرنے پر خراج تحسین پیش کرنے کی قراردادیں منظور کرائی جائئیں گی اور تمام اداروں کو سفارشات کی جائیں گی کی وہ عوامی برداشت کے سالانہ ایوارڈ زکا اہتمام کیا کریں بلکہ اقوام متحدہ کو بھی اپنی سفارشات ارسال کی جائیںگیا کہ وہ بھی پاکستان کی عوام کی طرف سے دنیا کے دیگر ممالک میں سے اس دن کو سب سے زیادہ منانے پر عالمی ایوارڈ کا اعلان کرے کیونکہ پاکستان کی عوام بر دا شت کا عا لمی دن 16نو مبر کو ہی نہیں بلکہ اس کو کئی سالوں سے مسلسل ہردن منا رہی ہے

Ad blocker interference detected!


Wikia is a free-to-use site that makes money from advertising. We have a modified experience for viewers using ad blockers

Wikia is not accessible if you’ve made further modifications. Remove the custom ad blocker rule(s) and the page will load as expected.